اشاعتیں

دسمبر, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غلام منور کی تمام تحریریں | ریختہ

تصویر
غلام منور   ہم سے رابطہ کریں   • ہمارے بارے میں  • دستبرداری • رازداری کی پالیسی تعارف     غز ل 56    اشعا 124       نظم 2     اقوال 35    ای - کتاب 6 غلام منور ____ غزل   56 ____ ♥️ اداس شامیں عذاب راتیں گزر ہی جائیں گی روتے رو تے ♥️ تیری قربت میں پڑھتی ہے مری دھڑکن اسے کہنا ♥️ کیا بتلائیں تجھ کو حقیقت غم نے ایسا زبان کیا ♥️ نصیبوں کی روانی تھی میاں پہلے بہت پہلے ♥️ پھر انا کو دفنایا ہے غبار ہونے کو __________ تمام اشعار 124 ____ گلے    سے   لگا  کر  ہمیں  رو  دیئے   وہ بچھڑ کر کبھی ہم نہ یوں مل سکے پھر __________ یہ زمیں وہ آسماں کچھ بھی نہیں بن ترے سارا جہاں کچھ بھی نہیں __________ وہ شوخی سے کبھی غالب ہو جاتا تھا ہم پہ ہم سے بھولی نہیں جاتی یہ چاہت اس کی __________ اپنوں کے رخ بدلنے سے تھا پریشاں میں پھر یوں ہوا کہ جاناں تم بھی بدل گئے __________ اب کے سوچا ہے بگاڑوں میں یہ صورت کسی دن لوگ چہرے پہ اداسی کا سبب پوچھتے ہیں  __________ تمام اقوال   35 ____ کسی کو بیوفا کہنے سے پہلے، اس کے نظریے سے بھی، اپنے اندر گہرائی تک جھانک کر ضرور دیکھ لیں  ____________ جو شخص آپ کو باد مخالف

اہلِ دل کی شان ہے بابِ دعا

غلام منور اہلِ دل کی شان ہے بابِ دعا اپنی بھی پہچان ہے بابِ دعا ناتواں ہو غم زدہ ہو یا ہو زن  سب پہ ہی قربان ہے بابِ دعا پوچھے ہے ہر غم زدہ کے اشکوں کو  کتنوں کی مسکان ہے بابِ دعا یہ جنم سے دنیا کا غم خوار ہے  ہند و پاکستان ہے بابِ دعا حرص بن اردو کی خدمت کرتی ہیں ہاں دعاؔ کی  آن ہے بابِ دعا کہتا ہے سب سے منورؔ اردو کی  پیاری سی اک جان ہے بابِ دعا 19/12/2023 ⁦ ❤️⁩

میں غیر ہوں تو غیر کو اپنا نہ کیجئے

غلام منور میں غیر ہوں تو غیر کو اپنا نہ کیجئے مجھ سے وفا نبھانے کا وعدہ نہ کیجئے یہ عید کا ہے دن ذرا مقنع اٹھائیے   شرما کے آج مجھ سے جاں پردہ نہ کیجئے جاناں سنو نہ ایک ہی بوسے کی بات ہے  اتنی سی بات پر سدا ڈانٹا نہ کیجئے بوسے سے آگے عشق میں بڑھنے لگا جو میں  کہنے لگی کہ ہائے یوں توبہ نہ کیجئے اتنا کرم خدارا خصم پر تو کیجئے ہر اک خطا پہ میری یوں روٹھا نہ کیجئے مجبور ہوں خدارا ذرا جانے بھی دو اب اپنی قسم دے کر مجھے باندھا نہ کیجئے محبوب میرے مجھ پہ حکومت ہے آپ کی پر بن بتائے کھڑکی سے آیا نہ کیجئے آتے ہو پل دو پل کے لیے مہماں بن کے تم ہر بار مجھ سے مل کے یوں بچھڑا نہ کیجئے اسلام کی او پیاری سی شہزادیاں سنو بےباک ہو کے غیر سے نیہا نہ کیجئے ایفا جو کر سکو تو کوئی عہد کیجئے  آخر میں چھوڑنا ہو تو وعدہ نہ کیجئے سورج نکل گیا ہے منورؔ میاں اٹھو اب آپ خواب نیند میں بویا نہ کیجئے 01/10/2023 ⁦ ❤️⁩

تمہارے تو کئی حبیب ہو گئے

غلام منور تمہارے تو کئی حبیب ہو گئے  ہمارے تو کئی رقیب ہو گئے وہ شخص جو ہمی سے جلتا تھا بہت  اسی کے آپ تو قریب ہو گئے دوا کرے ہیں اب تو غم کے ماروں کا سو ہم تو عشق میں طبیب ہو گئے نباہ جن سے کل کیا  تھا آپ نے وہ تو بہت ہی خوش نصیب ہو گئے تو ہی تو تھا جہاں ہمارا اے صنم  تجھے کھو کر تو ہم غریب ہو گئے  بچھڑ کے تجھ سے اب اجڑ گیا ہوں میں سنو ہو غم سے رخ عجیب ہے ہو گئے  14/03/2023 ⁦ ❤️⁩

یہ شام ڈھلتی ہی نہیں بن آپ کے

غلام منور یہ شام  ڈھلتی ہی نہیں بن  آپ کے یہ  رت گزرتی  ہی نہیں  بن  آپ کے آفاق میں جائیں تو جائیں ہم  کہاں  کچھ اپنی ہستی ہی نہیں بن آپ کے وہ دی جراحت اپنوں نے اک عمر کی مدت سے بھرتی  ہی نہیں بن آپ کے بن آپ کے  مرنے میں ہے  اب کیا  مزا یہ سانس  تھمتی ہی نہیں بن آپ کے آؤ  منورؔ  کچھ  کریں  اس  مرض کا کچھ بات  بنتی ہی نہیں  بن  آپ کے 20/04/2023 ⁦ ❤️⁩

ہوا ثابت کہ وہ ہی ہیں بجاصاحب

غلام منور ہوا   ثابت  کہ وہ  ہی  ہیں   بجا  صاحب کسو  جانا   نہ   پھر  ہم  نے  برا  صاحب  فلک  سے کچھ  خدا  کہتا  کہاں  ہے  اب  ہیں  ہم   ہی  آخری  غیبی  صدا  صاحب نہ میں  اچھا  ہوا  بت سے  کسی صورت  نہ  آئی   کام   کوئی   بھی  دعا   صاحب جنم  دن سے  لے  کر کے  میرے  مرنے  تک وہی   عشق و جنوں  سر  پر  رہا  صاحب مجھے جس  نے کہیں کا بھی نہیں چھوڑا  کیے  جاتے  ہیں  پھر اس سے  وفا صاحب ازل سے ان  کو ہی چاہے  ہیں سو ان سے نہ  اب  کیجئے   منورؔ   کو  جدا  صاحب بلی خود کی دے کر تیرے ہی صدقے میں کیے  دیتا   ہوں  سارے  حق   ادا  صاحب  یاں  اپنا   کون   ہے   میرا    کسے   بولوں  دی ہے سب ان ہی اپنوں  نے دغا صاحب    کہیں  ایسے  ہی عالم  سے نہ  اٹھ  جاؤں  ذرا پڑھ  لیتا  ہوں  اٹھ  کر  قضا  صاحب یہاں تک تو  خطا  کچھ بھی نہیں ہوئی  نجانے کیوں ہوئے  مجھ سے خفا صاحب 21/08/2023 ⁦ ❤️⁩

مزاجوں کی تمازت سہنا بے معنی سا لگتا ہے

غلام منور مزاجوں  کی   تمازت   سہنا   بے معنی   سا   لگتا   ہے مسلسل  دشت   میں   اب  رہنا   بے معنی سا  لگتا  ہے دیا ہے  جس  طرح  تو  نے  محبت  کا صلہ  مجھ   کو  تری عادت  سی  ہے   یہ کہنا  بے  معنی   سا   لگتا  ہے 18/08/2023 ⁦ ❤️⁩

مرنے پہ یار کے جنوں سرخاب سا رہا

غلام منور مرنے  پہ  یار  کے  جنوں  سرخاب  سا  رہا قریہ میں میرے اشک سے  سیلاب  سا رہا میں تو رہوں گا  بام پہ  ہی شب کا منتظر وہ مجھ سے دور جو کبھی مہتاب سا رہا  اک شخص نے مجھے ہی بہت خوار کر دیا نزدیک  ہو   کے  جو  مرے  احباب  سا  رہا ہم نے سنا کہ قریہ میں کافر  تھا جب تلک  موسم یہاں قفس میں بھی شاداب سا رہا  تلوار  کھینچ کر  میں کھڑا   ہو  گيا جہاں دشمن جاں  کا  ہمارا واں  غرقاب  سا  رہا کب شاہ سے پڑی تھی منورؔ کو کچھ غرض عالم میں ادنٰی  ہو کے  بھی ارباب  سا رہا  20/08/2023 ⁦ ❤️⁩

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غلام منور کی تمام تحریریں | ریختہ

اداس شامیں عذاب راتیں گزر ہی جائیں گی روتے روتے

غلام منور کی غزلیں