اشاعتیں

فروری, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غلام منور کی تمام تحریریں | ریختہ

تصویر
غلام منور   ہم سے رابطہ کریں   • ہمارے بارے میں  • دستبرداری • رازداری کی پالیسی تعارف     غز ل 56    اشعا 124       نظم 2     اقوال 35    ای - کتاب 6 غلام منور ____ غزل   56 ____ ♥️ اداس شامیں عذاب راتیں گزر ہی جائیں گی روتے رو تے ♥️ تیری قربت میں پڑھتی ہے مری دھڑکن اسے کہنا ♥️ کیا بتلائیں تجھ کو حقیقت غم نے ایسا زبان کیا ♥️ نصیبوں کی روانی تھی میاں پہلے بہت پہلے ♥️ پھر انا کو دفنایا ہے غبار ہونے کو __________ تمام اشعار 124 ____ گلے    سے   لگا  کر  ہمیں  رو  دیئے   وہ بچھڑ کر کبھی ہم نہ یوں مل سکے پھر __________ یہ زمیں وہ آسماں کچھ بھی نہیں بن ترے سارا جہاں کچھ بھی نہیں __________ وہ شوخی سے کبھی غالب ہو جاتا تھا ہم پہ ہم سے بھولی نہیں جاتی یہ چاہت اس کی __________ اپنوں کے رخ بدلنے سے تھا پریشاں میں پھر یوں ہوا کہ جاناں تم بھی بدل گئے __________ اب کے سوچا ہے بگاڑوں میں یہ صورت کسی دن لوگ چہرے پہ اداسی کا سبب پوچھتے ہیں  __________ تمام اقوال   35 ____ کسی کو بیوفا کہنے سے پہلے، اس کے نظریے سے بھی، اپنے اندر گہرائی تک جھانک کر ضرور دیکھ لیں  ____________ جو شخص آپ کو باد مخالف

غلام منور کی تمام تحریریں | ریختہ

تصویر
غلام منور   ہم سے رابطہ کریں   • ہمارے بارے میں  • دستبرداری • رازداری کی پالیسی تعارف     غز ل 56    اشعا 124       نظم 2     اقوال 35    ای - کتاب 6 غلام منور ____ غزل   56 ____ ♥️ اداس شامیں عذاب راتیں گزر ہی جائیں گی روتے رو تے ♥️ تیری قربت میں پڑھتی ہے مری دھڑکن اسے کہنا ♥️ کیا بتلائیں تجھ کو حقیقت غم نے ایسا زبان کیا ♥️ نصیبوں کی روانی تھی میاں پہلے بہت پہلے ♥️ پھر انا کو دفنایا ہے غبار ہونے کو __________ تمام اشعار 124 ____ گلے    سے   لگا  کر  ہمیں  رو  دیئے   وہ بچھڑ کر کبھی ہم نہ یوں مل سکے پھر __________ یہ زمیں وہ آسماں کچھ بھی نہیں بن ترے سارا جہاں کچھ بھی نہیں __________ وہ شوخی سے کبھی غالب ہو جاتا تھا ہم پہ ہم سے بھولی نہیں جاتی یہ چاہت اس کی __________ اپنوں کے رخ بدلنے سے تھا پریشاں میں پھر یوں ہوا کہ جاناں تم بھی بدل گئے __________ اب کے سوچا ہے بگاڑوں میں یہ صورت کسی دن لوگ چہرے پہ اداسی کا سبب پوچھتے ہیں  __________ تمام اقوال   35 ____ کسی کو بیوفا کہنے سے پہلے، اس کے نظریے سے بھی، اپنے اندر گہرائی تک جھانک کر ضرور دیکھ لیں  ____________ جو شخص آپ کو باد مخالف

غلام منور کی غزلیں

غلام منور ⁦❤️⁩ فرقت میں اس کی مجھ میں ندامت نہیں رہی ♥️ اداس شامیں عذاب راتیں گزر ہی جائیں گی روتے روتے ⁦❤️⁩ اب تو زغال چمکے ہے گوہر کی خیر ہو ⁦❤️⁩ آشوب چشم اور وہ اب چشم تر کہاں ⁦❤️⁩ نہ پایا تھا جہاں تُجھ کو وہاں سے اٹھ گئے آخر ⁦❤️⁩ دکھوں کو جگر میں دبائے ہوئے ہیں ⁦❤️⁩ سبھی کو اپنی فکرت ہے کوئی چاہے کسے ہے ♥️ تیری قربت میں پڑھتی ہے مری دھڑکن اسے کہنا ♥️ کیا بتلائیں تجھ کو حقیقت غم نے ایسا زبان کیا ⁦❤️⁩ اب آپ اپنی ہی سزا بن کر میں کیا جیوں ⁦❤️⁩ اپنے تو سارے مجھ کو ہی نندرنے کو چلے ♥️ نصیبوں کی روانی تھی میاں پہلے بہت پہلے ⁦❤️⁩ عالم میں تیرے جانے سے توفان ہے بہت ♥️ پھر انا کو دفنایا ہے غبار ہونے کو ♥️ بے   دل سے دل لگی کا مزا ہم سے پوچھئے ♥️ عاشق ہوں باوفا ہوں مجھے مار دیجئے ♥️ ایسا گرا کہ جھولا ہی صاحب کا پھٹ گیا ♥️ جو تیر تم نے مارا تھا دل میں ہی ره گیا ♥️ اک قول آج سر کے اپر سے گزر گیا ⁦❤️⁩ دیکھا جو تجھ کو بزم میں دیوانہ ہو گیا ⁦❤️⁩ ہوا ثابت کہ وہ ہی ہیں بجا صاحب ♥️ ہم نے جو سوچا تھا دل و خواب و خیال میں ⁦❤️⁩⁦ میں غیر ہوں تو غیر کو اپنا نہ کیجئے ⁩ ♥️ ہماری تم اداسی نہ پکڑ پائے ⁦❤️⁩ م

نہ پایا تھا جہاں تُجھ کو وہاں سے اٹھ گئے آخر

غلام منور نہ پایا تھا جہاں تُجھ کو وہاں سے اٹھ گئے آخر مری جاں سمجھو ہو تم ہم کہاں سے اٹھ گئے آخر بہت تم سوچتی ہو جاں تو یہ بھی سوچنا اک دن کہ ہم کیوں تیرے سنگِ آستاں سے اٹھ گئے آخر نہ سمجھا دکھ کو اپنوں نے نہ ہی میرے عزیزوں نے سو اک اک کر سبھی کے آشیاں سے اٹھ گئے آخر ہوئے پیدا بڑے لوگوں امیروں سے رفاقت کی امیری رہ گئی یاں ناتواں سے اٹھ گئے آخر اذیت تھی منورؔ کو نہ ٹک راحت ملی تو پھر ہو کر بے چین وہ لوحِ جہاں سے اٹھ گئے آخر 22/01/2024 ⁦ ❤️⁩

فرقت میں اس کی مجھ میں ندامت نہیں رہی

غلام منور فرقت میں اس کی مجھ میں ندامت نہیں  رہی جو کچھ بچی تھی اب وہ بھی عزت نہیں رہی  آجائے میرا یار کوئی حال پوچھنے یاروں سے میری ایسی رفاقت نہیں رہی کرتی ہو مجھ سے بات بہت آب و تاب میں کیا اب تمہیں بھی میری ضرورت نہیں رہی پرواہ تم کو میری ذرا بھی نہیں ہے گر پھر یہ بھی کہہ دو تم سے محبت نہیں رہی ہاں ٹھیک ہی  ہے ہجر کا ہوجائے فیصلہ ویسے بھی اب مجھے تری عادت نہیں رہی مرنا تمہیں تو ہے ہی منورؔ جی ایک روز مرجاؤ جینے کی تمہیں حاجت نہیں رہی کل رات میرے حجرے میں خلوت تھی اور میں لو مر گیا سحر کو وہ خلوت نہیں رہی 16/01/2024 ⁦❤️⁩

سبھی کو اپنی فکرت ہے کوئی چاہے کسے ہے

غلام منور سبھی کو اپنی فکرت ہے کوئی چاہے کسے ہے یہ اب دور قیامت ہے کوئی بھائے کسے ہے کھلا کر دل سے اپنے تُجھ کو بہلایا ہے ہم نے کھلا کر دل سے اپنے کوئی بہلائے کسے ہے تھے اہل ظرف جو لایا سر محفل وگرنہ پکڑ کر ہاتھ محفل میں کوئی لائے کسے ہے ہمیں جس نے بھی چاہا اک ضرورت تک ہی چاہا ضرورت ختم ہونے پر کوئی چاہے کسے ہے پراگندہ پڑا ہے گھر کے کونے میں منورؔ ذرا اس شخص کی پرواہ اب ہائے کسے ہے 16/01/2024 ⁦ ❤️⁩

عالم میں تیرے جانے سے توفان ہے بہت

غلام منور عالم میں تیرے جانے سے توفان ہے بہت عالم کا عالم اب تو پریشان ہے بہت دنیا میں ڈھونڈھتے ہو سکوں جو کہ ہے نہیں  اس بات کا مرے یہاں برہان ہے بہت ہم نے پٹک کے اس عدو سے جان چھین لی دشمن ہمارے جان کا حیران ہے بہت میرے بلا نے پر بھی نہیں آتا پاس وہ لگتا ہے بدمعاش یا شیطان ہے بہت سب کھوجتے ہیں نیک جو بالکل ہو بھولی سی لیکن مجھے شریر کا ارمان ہے بہت کچھ بھی نہ رہ سکا یاں منورؔ تمہارے بعد تیرے بغیر یہ جہاں ویران ہے بہت 15/01/2024 ⁦ ❤️⁩

آشوب چشم اور وہ اب چشم تر کہاں

غلام منور آشوب چشم اور وہ اب چشم تر کہاں وہ شوخ دیدہ اور وہ حسن نظر کہاں   آغوش میں صنم کے شب و روز ہر گھڑی  میرے رقیب کی جبیں ہے میرا سر کہاں کل رات آستان پہ اُن کے پڑے تھے ہم ہوئی سحر تو ویراں میں تھے اُن کا در کہاں پچھلے جنم میں مجھ سے جو دنیا میں کھو گیا اب سوچتا ہوں اس کو میں ڈھونڈوں مگر کہاں یہ عشق کے سفر نے کہیں کا نہیں رکھا تم پوچھتے ہو کیا کہ مسافر کا گھر کہاں فرہا دؔ قی سؔ می رؔ منورؔ ہیں عشق باز ان جیسے جان باز کو دنیا کا ڈر کہاں 13/01/2024 ⁦❤️⁩

اب آپ اپنی ہی سزا بن کر میں کیا جیوں

غلام منور اب آپ اپنی ہی سزا بن کر میں کیا جیوں تم جو نہ ہوئے میرے تو دنیا میں کیا رہوں دلبر کے ساتھ رب کو بھی رسوا کیا بہت فریاد میری کون سنے کس سے کیا کہوں تو زندگی ہے میری کیوں بگڑا بنا ہے تو اب تو ہی مجھ کو بتلا منورؔ میں کیا کروں یہ ذہن عشق میں تو معطل سا ہو گیا دل چاک اور ہے یہ نصیحت میں کیا سنوں عبرت لو مجھ سے عشق میں مر مر کے مرتا ہوں مرتا ہوں روز و شب میں تو مرنے سے کیا مروں مرنے کو آپ نے کہا تھا لو میں مر گیا اب گریہ کر یوں مجھ کو جگانے سے کیا جگوں 10/01/2023 ⁦ ❤️⁩

اب تو زغال چمکے ہے گوہر کی خیر ہو

غلام منور اب تو زغال چمکے ہے گوہر کی خیر ہو دورِ جدید میں فن و اشعر کی خیر ہو مجھ کو دکھا رہا تھا وہ حسن و جمال و فن دیکھا جو اس طرف کہا محشر کی خیر ہو ظالم جو اب کے تختِ حکومت پہ بیٹھے گا  لگتا نہیں کہ ہند کے لشکر کی خیر ہو  محفل میں ایک شعر سناؤں ابھی جو میں یہ آسماں کے سارے ہی اختر کی خیر ہو بے دین ہو کے بید کرے ہے خدائی یاں اللہ اللہ ایسے ہی منکر کی خیر ہو رٹ رٹ کے امتحان میں ٹاپر بنے تھے جو اے آئی کے جہان میں ٹاپر کی خیر ہو کرنے لگا صبا سے شکایت وہ آ گیا  کہنے لگی صبا  کہ منورؔ کی خیر ہو 06/01/2024 ⁦ ❤️⁩

دکھوں کو جگر میں دبائے ہوئے ہیں

غلام منور دکھوں کو جگر میں دبائے ہوئے ہیں یہ غم ہجر ماتم منائے ہوئے ہیں گلی سے ترے گزریں کس منہ سے اب ہم ترے آستاں سے اٹھائے ہوئے ہیں یہاں آئے بھی ہو بہت عرصے پر تم سنو کھالو جاں کچھ بنائے ہوئے ہیں نہ مجھ کو دکھا تو یہ دولت یہ شہرت بہت امن و عزت کمائے ہوئے ہیں جو فوٹو شرارت میں کھینچی تھی ہم نے  اسے اب جگر سے لگائے ہوئے ہیں گلی میں بتاں کی نہ جائیں گے اب ہم واں ہم تو لہو سے نہائے ہوئے ہیں  ہماری بنی ہے جو غم خوار اردو سو ہم خود کو یہ فن سِکھائے ہوئے ہیں ہے کچھ یاد وہ جو مناتے تھے تم کو وہ زیرِ زمیں اب سمائے ہوئے ہیں ذرا دیکھو ان کی طرف کیسے ہیں آہ نشانِ منورؔ مٹائے ہوئے ہیں 07/01/2023 ⁦ ❤️⁩

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غلام منور کی تمام تحریریں | ریختہ

اداس شامیں عذاب راتیں گزر ہی جائیں گی روتے روتے

غلام منور کی غزلیں