اشاعتیں

اشعار لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غلام منور کی تمام تحریریں | ریختہ

تصویر
غلام منور   ہم سے رابطہ کریں   • ہمارے بارے میں  • دستبرداری • رازداری کی پالیسی تعارف     غز ل 56    اشعا 124       نظم 2     اقوال 35    ای - کتاب 6 غلام منور ____ غزل   56 ____ ♥️ اداس شامیں عذاب راتیں گزر ہی جائیں گی روتے رو تے ♥️ تیری قربت میں پڑھتی ہے مری دھڑکن اسے کہنا ♥️ کیا بتلائیں تجھ کو حقیقت غم نے ایسا زبان کیا ♥️ نصیبوں کی روانی تھی میاں پہلے بہت پہلے ♥️ پھر انا کو دفنایا ہے غبار ہونے کو __________ تمام اشعار 124 ____ گلے    سے   لگا  کر  ہمیں  رو  دیئے   وہ بچھڑ کر کبھی ہم نہ یوں مل سکے پھر __________ یہ زمیں وہ آسماں کچھ بھی نہیں بن ترے سارا جہاں کچھ بھی نہیں __________ وہ شوخی سے کبھی غالب ہو جاتا تھا ہم پہ ہم سے بھولی نہیں جاتی یہ چاہت اس کی __________ اپنوں کے رخ بدلنے سے تھا پریشاں میں پھر یوں ہوا کہ جاناں تم بھی بدل گئے __________ اب کے سوچا ہے بگاڑوں میں یہ صورت کسی دن لوگ چہرے پہ اداسی کا سبب پوچھتے ہیں  __________ تمام اقوال   35 ____ کسی کو بیوفا کہنے سے پہلے، اس کے نظریے سے بھی، اپنے اندر گہرائی تک جھانک کر ضرور دیکھ لیں  ____________ جو شخص آپ کو باد مخالف

غلام منور کے اشعار

غلام منور صوفی کے نسل آج یوں عیاش ہو گئے  حجرہ شریف شیخ کا میخانہ ہو گیا  ___________ باتیں بڑی بڑی میاں کرتے تھے آن میں چھوٹی سی بات ہوئی کہ بس مرنے کو چلے  ___________ نالہ کیا بہت کہ نہ چھوڑو یوں تم مجھے آخر میں ظلم و جبر سے دامن چھڑا گیا  ___________ آتے ہو پل دو پل کے لیے مہماں بن کے تم ہر بار مجھ سے مل کے یوں بچھڑا نہ کیجئے ___________ حرص بن اردو کی خدمت کرتی ہیں ہاں دعاؔ کی  آن ہے بابِ دعا ___________ آتش بجاں سے تُو نہ رو کو پھر یوں موڈ اب  پھٹ کر کلیجہ خون سے منہ بھرنے کو چلے ___________ ہم جان عشق میں دے کے بدنام ہو گئے داڑھی بڑھا کے بد بلا مولانا ہو گیا ___________ کی ہے جفا یہ آپ نے اب کون وصف سے  مدت پہ مجھ کو ہوش جو آیا چلا گیا ___________ ہم نے سنا کہ قریہ میں کافر  تھا جب تلک  موسم یہاں قفس میں بھی شاداب سا رہا ___________ آفاق میں جائیں  تو جائیں ہم  کہاں  کچھ اپنی ہستی ہی نہیں بن آپ کے ___________ بچھڑ کے تجھ سے اب اجڑ گیا ہوں میں سنو ہو غم سے رخ عجیب ہو گئے ___________ ایفا جو کر سکو تو کوئی عہد کیجئے  آخر میں چھوڑنا ہو تو وعدہ نہ کیجئے ___________ تری قر

دل میں دکھ ہو تو کہاں گھوم نے جائے کوئی

غلام منور دل میں دکھ ہو تو کہاں گھوم نے جائے کوئی یار   روٹھا   ہو   تو  کیا   عید    منائے  کوئی *** _________

اپنوں کے رخ بدلنے سے تھا پریشاں میں

غلام منور اپنوں کے رخ بدلنے سے تھا پریشاں میں پھر یوں  ہوا کہ جاناں تم بھی بدل گئے *** __________

گلے سے لگا کر ہمیں رو دیئے وہ

  غلام منور گلے  سے   لگا  کر  ہمیں  رو   دیئے   وہ بچھڑ کر کبھی ہم نہ یوں مل سکے پھر   *** __________

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غلام منور کی تمام تحریریں | ریختہ

اداس شامیں عذاب راتیں گزر ہی جائیں گی روتے روتے

غلام منور کی غزلیں